چیف جسٹس ثاقب نثار نے بابا رحمتے کے کردار کو بیان کردیا

پاکستان
14
0
sample-ad

لاہور: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے بابا رحمتے کے کردار کو بیان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بابا رحمتے کاجب بھی ذکر کیا تومذاق اڑایا گیا ، بابا رحمتے کا کردارمعاشرے میں ایک منصف کاہوتا ہے،لوگ بابا رحمتے کو اپنا مسئلہ پیش کرتے،جب بابا رحمتا فیصلہ کرتا توفوری قبول کرتے،یہ نہیں کہتے کہ زیادتی کردی، یہی عدلیہ کا کردار ہے، ججز مقدمات میں تاخیر کرتے لیکن ایک جج پر یومیہ 55 لاکھ خرچ آتا ہے۔
انہوں نے آج یہاں لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بابا رحمتے کا ذکر کیا تومذاق اڑایا گیا ، کبھی کسی نے بابے رحمتے کے کردار بارے مجھ سے پوچھا؟ بابا رحمتے کا کردار ایک منصف اور بڑے کا کردار ہوتا ہے۔ بابا رحمتے کے پاس لوگ اپنے فیصلے کیلئے جاتے ہیں۔

لوگ بابا رحمتے کو اپنا مسئلہ پیش کرتے، پھر جب بابا رحمتا فیصلہ کرتا توچپ چاپ فیصلے کو قبول کرتے،یہ نہیں کہتے کہ بابے رحمتے نے زیادتی کردی۔

یہی عدلیہ کا کردار ہے۔عدلیہ کا معاشرے میں مقام ایک بزرگ کی طرح کا ہے۔کفر کا معاشرہ توقائم رہ سکتا ہے لیکن ناانصافی کا معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر ملک نہ ہوتا توشاید آج چھوٹا وکیل اور بینک کلرک ہوتا۔یہ ملک کسی نے خیرات اور تحفے میں نہیں دیا۔پاکستان حاصل کرنے کے پیچھے بڑی قربانیاں اور جدوجہد ہے۔پاکستان جیسا ملک نصیب والوں کو ملتا ہے۔
ملک کے حقوق جو میری ذمہ داریوں میں شامل ہے میں شاید وہ ادا نہیں کرسکا۔انہوں نے کہا کہ میں بار کا سب سے پرانا ممبر ہوں۔ 7برس کی عمر تھی جب سے ہائیکورٹ بار آرہا ہوں۔بابا غنی مجھے سائیکل پر لاتا تھا۔ بار سے ہوکر سکول جایا کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ججز جتنی بڑی تنخواہ لیتے ہیں اتنا کام بھی کریں۔جب جج ایمانداری سے مقدمات نہیں سنیں گے تو پھر مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے۔
ججز کئی کئی روز مقدمات کی شنوائی نہیں کرتے بلکہ تاریخیں دیتے رہتے ہیں۔ایک جج پر یومیہ 55ہزار خرچ آتا ہے۔کیاہم ججز کواپنے گریبانوں میں نہیں جھانکنا چاہیے؟ ججز کوچاہیے کہ ایمانداری سے فیصلے کریں ۔انہوں نے کہا کہ ایک خاتون کو کیس میں تاخیر سے 61سال بعد گھر ملا۔اب وہ وقت گزر گیا جب ایک مقدمے میں پشتیں گزر جاتی تھیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ کیا آپ اس دور میں جانا چاہتے ہیں جب انصاف میسر نہیں تھا۔جعلی دستخط بنانا کوئی بڑی بات نہیں ؟ میں بتا دیتا ہوں کہ جعلی دستخط کیسے کیے جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزات شیشے پر رکھیں اور نیچے لائٹ رکھیں،اور اوپر جعلی دستخط کر دیں۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.