خودکشی یا قتل؟ طالب علم کی موت معمہ بن گئی، اسکول انتظامیہ کی والدین کو دھمکیاں

پاکستانسندھ
35
0
sample-ad

کراچی: گلبرگ سمن آباد میں واقع اسکول کے طالب کی موت معمہ بن گئی، اسکول انتظامیہ کے موقف نے واقعے پر سوالیہ نشان لگا دیا.

تفصیلات کے مطابق گیارہ سالہ طالب علم حبیب اللہ کے کیس میں‌ اے آروائی نیوز کی تحقیقات نے کئی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں.

بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ انھیں دھمکا رہی ہے کہ گھر سے نہ نکلیں، اسکول کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نہیں دکھائی جارہی، اسکول انتظامیہ نے کہاہے کہ پہلے ایف آئی آردرج کرائیں پھرفوٹیج دکھائیں گے.

والدین کے مطابق بچے کی موت کیسے ہوئی،اسکول والے کوئی معلومات نہیں دے رہے، الٹا خاموش رہنے کا کہا جارہا ہے.

دوسری جانب بچے کی پراسرار موت کے بعد اسکول دو روز کے لئے بند ہے، انتظامیہ نے بینرلگا دیا.

واضح رہے کہ اسکول کی چھت پرتین کلاسیں ہیں، جب کہ باؤنڈری وال نہ ہونے کے برابرہے.

پرنسپل کا مبہم جواب

جب اے آر وائی نیوز نے حبیب اللہ کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے پرنسپل سے سی سی ٹی وی کے بارے میں سوال کیا، تو وہ بات گول کر گئے.

پرنسپل سےاےآروائی نیوز نے سوال کیا کہ کیا اسکول میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں؟ جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آپ کل آئیں، سب بتادوں گا، بچے نے دل برداشتہ ہوکر چھلانگ لگائی.

سوالات، جن کے جواب نہیں مل سکے

معصوم حبیب اللہ کی موت اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئی۔ اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حبیب اللہ کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں ہوا؟

یہ سوال بھی اہم ہے کہ چھت پر معصوم بچوں کی کلاسیں کس کی اجازت سے لگوائیں؟ کیا حبیب اللہ اساتذہ کےتشدد سے ڈرتا تھا؟

پھر اس سوال کا بھی جواب نہیں ملا کہ پولیس نے اب تک سی سی ٹی وی فوٹیج اپنے قبضےمیں کیوں نہیں لی؟ اور اس حساس معاملے کو فوراً خودکشی کیوں قرار دےدیا؟

عوامی دباؤ کے بعد پولیس نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنادی ہے۔

sample-ad

Article Tags

Facebook Comments

POST A COMMENT.