چیف جسٹس کاتعلیمی اداروں میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم

پاکستان
11
0
sample-ad

چیف جسٹس نے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا اگرمنشیات ختم نہ کرسکے تو مستقبل تباہ اور ایک بیمار قوم پیدا کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کھلے عام منشیات کی اسکولوں اور کالجوں میں فروخت تشویشناک ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صورتحال اسکولوں تک جاپہنچی ہے ، بچوں کو اسٹرابری کےنام پرچیزیں کھلائی جارہی ہیں۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ویڈیو دیکھی جس میں اچھےگھرکی لڑکی منشیات استعمال کررہی تھی، حیران ہوں ہمارےادارے کیا کر رہے ہیں۔
جسٹس ثاقب نثار نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ حدودچھوڑیں ،منشیات فروشوں کےخلاف کریک ڈاؤن کریں، جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا ایکشن لیں گے اورایک ہفتے میں رپورٹ آپ کو فراہم کریں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگرمنشیات ختم نہ کرسکےتو مستقبل تباہ اورایک بیمار قوم پیدا کریں گے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ میں سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔
یاد رہے گذشتہ ماہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان نے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور اینٹی نارکوٹکس سمیت دیگر حکام سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سڑسٹھ لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں جبکہ اڑتیس لاکھ افراد چرس اور آٹھ لاکھ سے زائد افراد ہیروئن کا استعمال کرتے ہیں۔
سال 2016 سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں اینٹی نارکوٹکس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے نصف سے زیادہ بچے اسکولوں میں ہی سرعام منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.