دو سالہ بچے نے والدین کے 1060 ڈالر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے

دلچسپ
14
0
sample-ad

2 سالہ لیو کو مشین سے کاغذوں کو پرزہ پرزہ کرنا اچھا لگتا ہے۔ لیو کی والدہ بھی اس کےشوق کو دیکھتے ہوئے پرانی رسیدیں اور کاغذات ضائع کرنے کے لیے اس کے حوالے ہی کرتیں۔ پرانے کاغذوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے شوق میں ایک دن لیو نے وہ 1060 ڈالر بھی پرزے پرزے کر دئیے جو اس کے والدین نے فٹ بال سیزن میں اپنی پسندیدہ ٹیم کے ٹکٹ خریدنے کے لیے جمع کیے تھے۔
لیو کے والدین بین اور جیکی کو اس بات کا پتا اس وقت چلا جب انہوں نے لفافے میں سے رقم نکالنی چاہی۔ خالی لفافہ دیکھ کر انہوں نے گھر میں رقم تلاش کی تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی بچت پرزے پرزے ہوکر پیپر شریڈر میں پڑی ہے۔
جیکی نے بتایا کہ وہ اکثر پیپر شریڈر کو بند رکھتی ہیں لیکن اس بار شاید انہوں نے اسے کھلا چھوڑ دیا تھا۔
بین نے اپنے بیٹے کی اس حرکت پر ٹوئٹ کیا کہ ”آپ اکثر بچوں کے دیواروں پر ڈرائنگ بنانے کے بارے میں سنتے ہیں۔
میں نہیں جانتا کہ کسی کا ایسا بچہ بھی ہے جو 1000 ڈالر ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ “ بین نے مزید لکھا کہ ہم کتنے بے چین اور پریشان ہیں، اس پر آپ صرف ہنس سکتے ہیں۔ بین کے ٹوئٹس ٹوئٹر پر 20 ہزار سے زیادہ بار ری ٹوئٹس ہو چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بین کو اس کی رقم وزارت خزانہ سے واپس مل جائے گی لیکن اس عمل میں دو سال لگیں گے۔ اس وقت تک یقیناً لیو کے پیپر شریڈر کےا ستعمال پر پابندی ہوگی۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.