کراچی سینٹرل جیل کرپشن کی جنت

پاکستانسندھ
40
0
sample-ad

سینٹرل جیل میں جیلر و عملے کی مبینہ کرپشن،
جیلر کا قیدیوں پر بہیمانہ تشدد کر کے لاکھوں روپے رشوت وصولی کا انکشاف۔
جیل سے عدالت پیشی پر لائے گئے قیدیوں اور اہلخانہ نے عدالتی صحافی کو جیلر احسان مہر کی کرپشن اور رشوت نہ دینے پر قیدیوں پر بہیمانہ تشدد کے خلاف خط کے ذریعے تفصیلات فراہم کر دیں۔
جیلر احسان مہر قیدیوں پر تشدد کرکے لاکھوں روپے رشوت وصول کررہا ہے۔رشوت نہ دینے پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل جیل میں جیلر احسان مہر نے اپنا قانون بنارکھا ہے اور جیل مینول کی دھجیاں اڑ کر رکھ دیں ہیں۔
خط کے مطابق جیل میں نئے لائے گئے ملزمان کو داخلی دروازے پر کھڑے اہلکار اور چند کچے پکے قیدی جو جیل انتظامیہ کے بیٹر ہیں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے سامان چھین کر اہلخانہ سے رقم منگوانے پر مجبور کیا جاتا ہے،
جب نئے قیدی بیرک میں جاتے ہیں تو بیرک کے بیٹر بھی انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،
نئے قیدیوں کوتھپی میں سلایا جاتا ہے تھپی ایک کروٹ سونے کو کہاجاتا ہے ایک قیدی کا منہ دوسرے قیدی کے پنجے پر ہوتا ہے،
بیرک میں 40قیدی کی جگہ ہوتی ہے لیکن جیل انتظامیہ 80سے زائد قیدی کو رکھتی ہے،
خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ جیلر احسان مہر نے اس اذیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بیٹروں کو ریٹ لسٹ دے رکھی ہے جس کے تحت بیٹر نئے قیدی سے بستر کی فراہمی کے عوض 20 ہزار روپے اور مشقت نہ لینے پر 25 ہزار روپے تک رشوت وصول کرتاہے،
اگر کسی قیدی کو اسپتال یا مدرسے میں منتقل ہونا ہو تو اسکی ہزاروں روپے رشوت الگ وصول کی جاتی ہے،
ذرائع کے مطابق اگر قیدی کو جیل کا کھانا نہیں کھانا ہو اور بیرک میں اپنا کھانا پکا کر کھانا ہو تو اسکی رقم الگ وصول کی جاتی ہے، جیل میں مشقت معافی کو 109کی چھوٹ کہا جاتا ہے، اس چھوٹ میں قیدی پورے جیل میں کہیں بھی گھوم پھر سکتا ہے،
جیل میں جب کسی قیدی کی ملاقات آجائے تو بیٹر اس قیدی کو اہلخانہ سے رقم لینے کیلئے کہتے ہیں ، بیٹر خود اس قیدی کے ہمراہ ملاقات روم میں چلاتا جاتا ہے جہاں بیٹر قیدی کو اسکے اہلخانہ کے سامنے تشدد کا نشانہ بناتاہے تاکہ اہلخانہ لازمی رشوت کی رقم دیکر جائیں۔
ذرائع کے مطابق جیل مینول کے مطابق کچے قیدی سے مشقت نہیں لی جاسکتی جس قیدی کو سزاہوجائے وہ جیل میں مشقت کرتا ہے لیکن جیل انتظامیہ نے اپنا قانون بنارکھا ہے،
تمام کام جیل مینول کے خلاف ہوتے ہیں،کچے قیدی سے مشقت لی جاتی ہے اور پکا قیدی ان سے مشقت لیتا ہے اگر کوئی قیدی جیل انتظامیہ سے اڑ جائے تو اسے کلاٹین (کال کوٹھری) میں بندکر دیا جاتا ہے،
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی قیدی کی دوسرے روز عدالت پیشی پر جانا ہو تو وہ پہلے جیل منشی کو 500 سے ایک ہزار روپے رشوت دے گا نہ دینے پر اسے عدالت نہیں جانے دیا جاتا، یہاں رشوت دینے کے بعد جیل کے وین ڈرائیور کو بھی رقم دینی پڑتی ہے۔
قیدیوں کے اہلخانہ نے وزیراعظم پاکستان چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سندھ حکومت سے جیلر احسان مہر اور انکے عملے کو فوری برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر سینٹرل جیل کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا
واضح رہے کہ قیدیوں ، اہلخانہ اور جیل زرائع کی جانب سے نام نہ ظاہر کرنے پر یہ معلومات میڈیا کو فراہم کی گئی ہیں۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.