میرا بس چلے تو ہر کیس میں ایف بی آر کو جرمانہ کروں

پاکستان
14
0
sample-ad

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایف بی آر کی غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا میرا بس چلے تو ہر کیس میں ایف بی آر پر پچاس ہزارجرمانہ کروں اور جرمانے کے سارے پیسے ڈیم فنڈ میں ڈالوں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں انکم ٹیکس کے کیس کے دوران ایف بی آر کی غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار برہم ہوگئے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا ایف بی آر کی جانب سے زیادہ فضول درخواستیں آرہی ہیں، ایف بی آر کے تمام مقدمات غیر سنجیدہ ہیں، میرا بس چلے تو ہر کیس میں ایف بی آر پر پچاس ہزارجرمانہ کروں، اور جرمانے کی تمام رقم ڈیم فنڈ میں جائے گی۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ فضول درخواستوں پر ایف بی آر حکام کہتے ہیں اربوں کے کیس عدالتوں میں ہیں، چیئرمین ایف بی آر کو توفیق نہیں ہوتی کہ عدالت آئیں۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا ایف بی آر نے عدالت پر مقدمات کا بوجھ ڈالا ہوا ہے، حکام کومقدمات پرصرف بیان بازی آتی ہے، سپریم کورٹ میں اپیل کرکےحجت تمام کی جارہی ہے۔
خیال رہے ایف بی آر نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی سہولت کو مد نظررکھتے ہوئے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کردی ہے، اسٹیک ہولڈرز اب 30 نومبر تک اپنے گوشوارے جمع کراسکتے ہیں۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.