تعلیمی درس گاہیں اسٹیل ملزیا ٹیکسٹائل ملزنہیں‘ چیف جسٹس

پاکستان
13
0
sample-ad

نجی اسکولوں کی جانب سے زائد فیس وصولی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پبلک ایجوکیشن سسٹم ملی بھگت سے زمیں بوس ہوچکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے نجی اسکولوں کی جانب سے زائد فیس وصولی کیس کی سماعت کی۔
عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اواور اے لیول کر کے بہت چارجز لیے جا رہے ہیں، ہمیں فیسوں کا اسٹرکچر دکھا دیں۔
وکیل نجی اسکولز نے کہا کہ فیسوں میں اضافہ رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری سے ہوتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ فیسیں بڑھانے کا جواز دینا ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اسکول کواختیارات ہیں کہ وہ من پسند فیسیں بڑھائے، اگر اختیارات نہیں ہیں تو ان کوریگولیٹ کون کرتا ہے، کیوں نہ بڑے بڑے اسکولوں کا فرانزک آڈٹ کرا لیں۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ اسکول ممی ڈیڈی کلاس کومتاثرکرنے کے لیے سہولتوں کے نام پرلوٹتے ہیں، ممی ڈیڈی کلاس والے اسکول میں توآیا پیمپر بھی تبدیل کرتی ہے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ تعلیمی درس گاہیں اسٹیل ملزیا ٹیکسٹائل ملز نہیں، پبلک ایجوکیشن سسٹم ملی بھگت سے زمیں بوس ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیراورغریب میں فرق دیکھنا ہوتوفہمیدہ کی کہانی آپا راحت کی زبانی دیکھ لیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہم نے یا آپ نے ٹیوشن پڑھ کرتعلیم حاصل نہیں کی، تعلیم کوکمائی کا ذریعہ بنایا لیا گیا ہے۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.