بھارتی فلم “منٹو” خلاف توقع پذیرائی حاصل نہ کرسکی

شوبز
37
0
sample-ad

ردو زبان کے شہرہ آفاق افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم ریلیز کردی گئی جس نے حیران کُن طور پر پہلے روز باکس آفس پر خاطر خواہ بزنس نہیں کیا۔
تفصیلات کے مطابق فلم ’منٹو‘ کا اسکرپٹ اور ہدایت کاری کے فرائض نندتا داس نے سرانجام دیے جبکہ باصلاحیت اداکار نوازالدین صدیقی نے معروف افسانہ نگار کا کردار ادا کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریلیز کے پہلے روز فلم منٹو نے صرف چالیس لاکھ روپے کا بزنس کیا، فلمی پنڈتوں نے نندتا کی ہدایت کاری کو فلاپ قرار دیا۔
واضح رہے کہ فلم میں منٹو کے مختلف پہلوؤں کو دکھایا گیا ہے جس میں وہ کبھی پولیس تو کبھی عدالتوں کا سامنا کرتے جبکہ کبھی اپنی تحریروں کی وجہ سے لوگوں اور اہلیہ کے طعنے بھی سنتے نظر آئے۔
قبل ازیں جاری ہونے والے ٹریلر میں ’منٹو‘ کی زندگی اور تحریروں سے انہیں پیش آنے والی مشکلات کو نہایت خوبصورتی سے دکھایا گیا تھا جبکہ نوازالدین صدیقی سعادت حسن کی طرح معاشرے کی حقیقت بیان کرتے بھی نظر آئے تھے۔
فلم میں نوازالدین صدیقی منٹو جبکہ دیگر کاسٹ میں رشی کپور، راسیکا دگل، راج شری، دیش پانڈے وغیرہ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس منٹو کو کینز فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ہدایت کارہ کا کہنا تھا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہیں لوگ منٹو کی زندگی کو دیکھ کر کیسا ردعمل دیں گے۔
خیال رہے کہ یہ فلم افسانہ نگار کی پوری زندگی پر نہیں بنائی گئی بلکہ حیات کے آخری چند سال اور خاص طور پر تقسیم برٖصغیر کے بعد کچھ مناظر کو فلم میں شامل کیا گیا ہے۔
اس بارے میں نواز الدین کا کہنا تھا کہ ’آپ منٹو کو مکمل طور پر بیان کر ہی نہیں سکتے، یہ تو صرف اُن کی ذرا سی جھلک ہوگی جو ہم پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔
اس ضمن میں ہدایت کارہ نندتا داس نے لاہور میں مقیم منٹو کی بیٹیوں اور ان کے خاندان کے دیگر افراد سے بھی ملاقات کی تھی اور ریلیز کے موقع پر اُن کی صاحبزادی کو ممبئی بھی مدعو کیا تھا۔ اُن کے اہل خانہ نے نندتا کو منٹو کی زندگی اور شخصیت کے اُن پہلوؤں سے بھی آگاہ کیا جو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
پاکستانی فلم انڈسٹری میں بھی سنہ 2015 میں منٹو کی زندگی پر فلم پیش کی جا چکی ہے جس میں مرکزی کردار سرمد کھوسٹ نے ادا کیا تھا جبکہ اداکارہ صنم سعید بھی فلم کا حصہ تھیں۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.